Nehru’s Constituent Assembly Speech

Posted on April 2, 2015.


This is a speech delivered by Jawaharlal Nehru in the Constituent Assembly on 14th August 1947 to the Indian Constituent Assembly, released by All India Radio sometime ago. It is delivered in Urdu (or Hindustani, depending on your language politics). Nehru was a fluent Urdu speaker, and the speech is a beautiful rendition in the syncretic language of that time which mixed sophisticated Urdu vocabulary with occasional words and phrases in Sanskritised Hindi. Nowadays, Hindi (in India) and Urdu (in Pakistan as well as India) have diverged significantly, in a bid to forge mutually distinct identities for themselves. In doing so, both languages have lost some of their charm.

The more famous speech (in English) that Nehru delivered in the Constituent Assembly that day is called Tryst With Destiny. The full text and audio speech are easily available. Even a Hindi version of the speech that was broadcast on AIR the next day is available online1. However, even after diligent searching I can neither find the entire transcript or the full audio of the Urdu speech anywhere. It is unclear whether the ommision is wilful, or merely a result of apathy towards Urdu in post-independence India.

Here is a transcription of the excerpt in Urdu script:

کِتنے برس ہوۓ کہ ہم نے قِسمت سے ایک بازی لگائی تھی۔ ایک اِقرار کِیا تھا۔ پرتِگیا کی تھی۔اب وقت آیا کہ ہم اُس کو پورا کریں۔ بِلکُل پوری تو شاید اب بھی نہ ہو، لیکِن پھِر بھی ایک بڑی منزِل پوری ہوئی ، ہم وہاں پہُنچے۔ مُناسِب ہے کہ ایسے وقت پہلا کام ہمارا یہ ہو، کہ ہم ایک پُرانی اور ایک نئی پرتِگیا پھِر سے ہم کریں۔ اِقرار کریں آئندہ ہِندُستان کا اور ہِندُستان کے لوگوں کے خِدمت کرنے کا۔ چند مِنٹ میں یہ اسمبلی ایک پوری طور سے آزآد، خُد مُختار اسمبلی ہوگی۔ اور یہ اسمبلی نُمایندگی کریگی ایک آزاد خُد مُختار مُلک کی۔ ناچے اِس کے اوپر زبردست ذمہ داریاں آتی ھیں، اور اگر ہم اُن ذمہ داریوں کو پوری طور سے مہسوس نہ کریں، تب شاید ہم اپنا کام پوری طور سے نہیں کر سکینگے۔ اِس لۓ یہ زروری ہو جاتا ہے کہ ہم ایسے موقع پر پوری طور سے سوچ سمجھ کے اِس کا اِقرار کریں۔ اور جو ریسولوشن پرستاو میں آپکے سامنے پیش کر رہا ھوں وہ اِس اِقرار، اِس پرتِگیا کا ہے۔ ہم نے ایک منزِل پوری کی، اور اِس کی خُشِیاں منایٔ جا رہی ہیں اور ہمارے دِل میں بھی خُشی ہے، اور کِسی کدر غُرور ہے، اور اِطمِنان ہے، لیکِن یہ بھی ہم جانتے ھیں کہ ہِندُستان بھر میں خُشی نہیں اور ہمارے دِل میں بھی رنج کے ٹُکڑے کافی ہیں۔ اور دِلّی سے بہُت دور نھیں، بڑے بڑے شہر جل رہے ھیں۔ وہاں کی گرمی یہاں تک آ رہی ہے۔ خُشی پوری طور سے نہیں ہو سکتی لیکِن پھر بھی ہمیں اِس موقع پر ہِمّت سے اِن سب باتوں کا سامنا کرنا ہے۔ نہ ہاے ہاے کرنی ہے، نہ پریشان ہونا ہے۔ جب ہمارے ہاتھ میں باگڑور آئی تو پھِر اُسکو ٹھیک طور سے گاڑی کو چلانا ہے۔


  1. it is a bit grating to hear it, especially after listening to the Urdu excerpt