Urdu Assignment April 2015

Posted on April 22, 2015.

Final term assignment for Urdu class – an analysis of Toba Tek Singh, a short story by Saadat Hasan Manto.

Link to original handwritten version: Page 1, Page 2

ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ افسانہ کا جایزہ

مصنف کے بارے میں

سعادت حسن منٹو اردو کے ایک جانے مانے افسانہ نگار ہیں۔ وہ پنجاب کے لدھانہ ضلع میں 1912 میں پیدا ہوئے۔ ان کے ماں باپ کشمیری مسلمان تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر نے کے بعد انجمن ترقی پسند مصنفین ہند کے ساتھ جڑے۔ 1936 میں وہ بمبئی شہر جا کر بس گئے جہاں انہوں نے اپنے کئی مشہور افسانے اور فلم کے سکرپٹ لکھے۔ 1947 میں بٹوارے کے بعد وہ لاہور چلے گئے۔ وہاں ان کی ملاقات فیض احمد فیض، سید ناصر رضا كاظمی اور احمد ندیم قاسمی‎ سے ہوئی اور وہ اخباروں کے لئے مضمون لکھنے لگے۔ 1955 میں ان کا انتقال ہوا۔

کہانی کا خلاصہ

’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ بٹوارے کے کچھ سال بعد کی ایک پاگل خانے کی کہانی ہے۔ ہندستان اور پاکستان کی حکومتیں فیصلہ کرتی ہیں کہ پاکستانی پاگل خانوں میں رہنے والے ہندو اور سکھ پاگلوں کو ہندستان، اور ہندستان میں رہنے والے مسلمان پاگلوں کو پاکستان بھیجا جائے گا۔ اس خبر کو سن پاکستان کے ایک پاگل خانے میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ وہاں کے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔ وہ الجھن میں پڑ جاتے ہیں کہ انھیں کہاں بھیجا جائے گا۔ ان میں سے کچھ پاگلوں کے درمیان لڑائیاں بھی چھڑ جاتی ہیں۔

اس پاگل خانے مین بشن سنگھ نام کا ایک سکھ پاگل رہتا ہے جو کہانی کا مرکزی کردار ہے۔ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ نام کے ایک شہر میں رہا کرنا تھا۔ وہ لگاتار پتا کر نے کی کوشش کرتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندستان میں ہے یا پاکستان میں، لیکن کوئی اسے پکا جواب نہیں دیتا ہے۔

جب بشن سنگھ کو غصہ آتا ہے تو وہ پنجابی اور انگریزی کو ملا جلا کر بڑبڑانے لگتا ہے۔اس کی باتیں ویسے تو بے مطلب ہوتی ہیں لیکن ان میں ہندستان اور پاکستان دونوں کے لیے دبی ہوئی گالیاں شامل ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر:

”اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دور فٹے منہ ! “

آخری وقت پر جب پولیس اس کو ہندستان روانہ کرنے لگتی ہے، تو اسے پتا چلتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان کی طرف پڑتا ہے۔ بشن سنگھ جانے سے انکار کر دیتا ہے۔ کہانی کے آخر میں وہ دونوں ملکوں کی سرحدوں کے بیچ لیٹا، مرا یا مرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ افسانے کے آخری جملے ہیں:

”ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا۔“

کہانی کی تنقید

’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ افسانہ بٹوارے کے وقت ملک کے لوگوں پر سوار ہوئے پاگل پن اور وحشت کو بیان کر تا ہے۔ منٹو ایک ’پاگل خانے‘ میں رہنے والے ذہنی طور پر معذور لوگوں کی بٹوارے کو لے کر بے چینی، افرا تفری اور آپسی رنجش کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ لیکن اس تصویر میں اس وقت کے عام ہندستانیوں کے برتاؤ اور اعمال کا عکس نظر آتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بٹوارا ایک غیر منطقی اور نا معقول ذہنیت کی پیدائش تھا، جس کی وجہ سے ایک ملک کے صدیوں سے ساتھ رہتے آئے لوگ راتوں رات ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔

فسانے میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح بٹوارے کے وقت دور بیٹھی پوشیدہ کمیٹیوں کے فیصلوں نے ملک کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو ادھر سے اُدھر کر دیا۔ کئی عام لوگ بھی ان طاقتور لوگوں کی باتوں میں اتنی آسانی سے آ گئے کہ انھوں نے اس صورت حال پر کوئی سوال تک کھڑے نہیں کئے۔ بشن سنگھ شاید ان ’پاگل‘ لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے، جنھوں نے بٹوارے کے پیچھے کے مفروضات کو قبول نہیں کیا اور اپنے وجود کو لالچی سیاست دانوں کے منصوبوں کے مطابق ڈھلنے سے انکار کیا۔